27 اگست 2026 - 20:16
امتِ اسلامی کا اتحاد دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کا مؤثر راستہ ہے

مجلسِ اعلائے شیعیان لبنان کے نائب صدر شیخ علی الخطیب نے کہا ہے کہ اسلامی امت کا اتحاد دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے اور مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی دشمنوں کے مقابلے میں مزاحمت اور ثابت قدمی قرآنِ کریم کی جانب سے اتحادِ امت پر دی جانے والی تاکید کا نتیجہ ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، مجلسِ اعلائے شیعیان لبنان کے نائب صدر شیخ علی الخطیب نے کہا ہے کہ اسلامی امت کا اتحاد دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے اور مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی دشمنوں کے مقابلے میں مزاحمت اور ثابت قدمی قرآنِ کریم کی جانب سے اتحادِ امت پر دی جانے والی تاکید کا نتیجہ ہے۔

شیخ علی الخطیب نے چالیسویں بین الاقوامی کانفرنسِ وحدتِ اسلامی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج امتِ مسلمہ کو متعدد تہذیبی اور فکری چیلنجز کا سامنا ہے، جن کے باعث اسلامی دنیا کے بہت سے وسائل اور صلاحیتیں متاثر ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان سازشوں کے پسِ پردہ ایسے عناصر موجود ہیں جو انسانی حقوق اور انسانی جان کی کوئی قدر نہیں کرتے، جبکہ ان کے حامی بھی ان اقدامات میں شریک ہیں۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ مسلمان پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی اس تعلیم کو مضبوطی سے تھامے رکھیں جو اخلاق، انسانیت اور خیر و بھلائی پر مبنی ہے۔

لبنانی عالمِ دین نے ایران کی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے بلند فکری اصولوں، اسلامی قوانین کے نفاذ اور مزاحمت پر مبنی پالیسی کے ذریعے دشمنوں کے مقابلے میں استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی مزاحمتی معیشت نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی سمت پیدا کرنے میں بھی کردار ادا کیا ہے۔

شیخ علی الخطیب نے کہا کہ ہفتۂ وحدت کے موقع پر موجودہ حالات کو اتحادِ امت کے لیے ایک مثبت موقع سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق ایران کی دشمنوں کے مقابلے میں ثابت قدمی اسی قرآنی اصولِ اتحاد سے جڑی ہوئی ہے جس میں مسلمانوں کو متحد رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ موجودہ عالمی حالات مسلم ممالک سے پہلے سے زیادہ اتحاد اور باہمی تعاون کا تقاضا کرتے ہیں۔ اسلامی ممالک کو اختلافات کو کم کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تاکہ دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ کیا جا سکے اور امت کو درپیش مشکلات کا حل تلاش کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی دنیا کے درمیان تعمیری مذاکرات کے ذریعے اتحاد کے عملی طریقۂ کار وضع کرنے اور دشمنوں کی کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

شیخ علی الخطیب نے اپنے خطاب کے اختتام پر انقلابِ اسلامی کے شہید رہنما کے ایک قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب دنیا میں دو ارب مسلمان موجود ہیں تو وہ ایک امت کیوں نہیں بن سکتے؟ اگر تمام مسلمان ایک سمت میں متحد ہو کر آگے بڑھیں تو وہ ایک متحد امت بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہید رہنما ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ اسلامی ممالک کی صلاحیتوں اور وسائل کو یکجا کرکے دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ کیا جائے، کیونکہ مسلم ممالک کے خلاف دشمنوں کی کارروائیوں کے لیے سب سے بڑا راستہ باہمی تفرقہ اور اختلافات ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha